عدالتی فیصلوں اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کیخلاف 1976 کا توہین عدالت کا قانون تھا جسے ختم کر کے 2003 میں توہین عدالت آرڈیننس لایا گیا تھا۔
2012 میں اس میں ترمیم کی گئی جسے غالبا چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں بینچ نے مسترد کر دیا جبکہ 2016 میں اسکے سیکشنز 3 اور 5 میں ترامیم کی گئیں اور اسے ایکٹ کی شکل دی گئی۔
توہین عدالت کے قانون میں توہین عدالت کو 3 اقسام میں بیان کیا گیا ہے۔
◾دیوانی توہین: عدالت کے کسی حکم،فیصلہ یا اقرار جو عدالت سے کیا گیا ہو کی عمدا تضحیک یا خلاف ورزی کرنا۔
◾فوجداری توہین: انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا یا اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کیلئے جج یا گواہ کو لالچ یا دھمکی وغیرہ دینا۔
◾عدالتی توہین: عدالت کے بارے میں شرمناک یا تضحیک آمیز گفتگو کرنا یا کسی جج کے ذاتی کردار کو تنقید کا نشانہ بنانا۔
ہر وہ کام جو کسی جج یا عدالت کی توہین کا باعث ہو توہین عدالت ہو گا۔
اعلیٰ عدالتیں (سپریم کورٹ،ہائی کورٹس) توہین عدالت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کر سکتی ہیں۔عدالتی توہین جس جج کے خلاف کی گئی ہو وہ اس مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتا بلکہ اسے چیف جسٹس کے سپرد کردے گا جو اسے خود سنیں گے یا کسی اور جج کے سپرد کریں گے۔
عدالت توہین عدالت کے مرتکب فرد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائی کھلی عدالت میں کی جاتی ہے اور ان مقدمات کا ریکارڈ دوسرے مقدمات سے الگ رکھا جاتا ہے۔
قانون کے سیکشن 5 کے تحت توہین عدالت کے مرتکب شخص کو 6 مہینے تک قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
دیوانی توہین کی صورت میں قید کی سزا نہیں ہوگی۔ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
توہین عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کہاں کی جائیگی؟
1۔اگر فیصلہ ہائیکورٹ کے ایک جج نے کیا ہو تو انٹراکورٹ اپیل ہائیکورٹ میں ہی ہوگی جس کی سماعت 2 یا اس سے زیادہ ججوں کا بینچ کرے گا۔
2۔اگر ابتدائی فیصلہ ڈویژن بینچ یا اس سے بڑے بینچ نے کیا ہو تو اپیل سپریم کورٹ میں ہوگی۔
3۔اگر ابتدائی فیصلہ سپریم کورٹ کے ایک جج یا 2 ججوں پر مشتمل بینچ نے کیا ہو تو انٹرا کورٹ اپیل سپریم کورٹ کے 3 ججوں پر مشتمل بینچ میں ہوگی۔
4۔اگر ابتدائی فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 یا زائد ججوں پر مشتمل بینچ نے کیا ہو تو انٹرا کورٹ اپیل سپریم کورٹ کے 5 یا اس سے زائد ججوں پر مشتمل بینچ میں ہوگی۔
Contempt of Court Ordinance,2003.
Contempt of Court (Ammendment) Act,2016

Comments